اڈپی 3؍اپریل(ایس او نیوز) اڈپی کی ڈپٹی کمشنرپریانکا فرانسس اور اسسٹنٹ کمشنر شیلپا ناگ نے الزام لگایا ہے کہ آدھی رات کے وقت کنداپور تعلقہ کے کنڈلور میں غیر قانونی طور پر ریت کے کاروبار میں مصروف مافیا نے ان پر حملہ کرتے ہوئے ان کاقتل کرنے کی کوشش کی ہے۔
رات کے دو بجے قتل کی کوشش کی شکایت اڈپی پولیس اسٹیشن میں درج کرنے کے بعد پریس والوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی سی پریانکا فرانسس نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر ریت نکالنے کے اڈوں پر آدھی رات کو خفیہ چھاپہ ماری کا منصوبہ بنایا گیا مگررازداری بنائے رکھنے کے لئے انہوں نے پولیس کو اس کی اطلاع نہیں دی تھی۔
تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم نے پہلے ہالناڈ نامی مقام پر چھاپہ مارا اور غیر قانونی طور پر ریت نکالنے میں مصروف 6افراد کو حراست میں لیاجو کہ شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے مزدور تھے۔ پھر وہاں سے انہوں نے رات 11.30بجے کنڈلور میں چھاپہ ماراتو وہاں ڈی سی اور اے سی کے علاوہ ان کی ٹیم میں شامل ۲ ڈرائیوروں، ڈی سی کے گن مین اور ولیج اکاؤنٹنٹ کانتا راجو پر ریت مافیا کے لوگوں نے حملہ کردیا۔شکایت کے مطابق ریت کے کاروبار سے متعلقہ لوگوں نے ڈی سی اور اے سی کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ ڈی سی کا کہنا ہے کہ وہ لوگ کسی طرح وہاں سے جان بچا کر بھاگ نکلے مگر ان کے ساتھ ٹیم میں شامل کانتا راجووہاں سے بھاگ نہیں پایا تھا جسے بعد میں پولیس کی مدد سے بچالیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر دونوں نے اس چھاپے کے لئے پرائیویٹ کاروں کا استعمال کیا تھا۔
دوسری طرف ریت نکالنے والوں میں شامل بھاسکر نامی ایک شخص نے الزام لگایا ہے کہ ڈی سی اور اے سی آدھی رات کو اس کے گھر پر آئے اور اس پر ظلم ڈھایا ۔پھر اسے وہاں سے پکڑ کر لے آئے۔بھاسکر نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسے کار میں گھسیٹ کر ڈالنے کی کوشش میں کار کا دروازہ اس انداز سے بند کیا گیا کہ اس کا ہاتھ دروازے میں پھنس گیا جس سے اس کی دو انگلیاں کٹ گئیں جبکہ اسے 300میٹر کی دوری تک کارمیں گھیسٹ کر لے جایا گیا۔بھاسکر کو زخمی حالت میں کنڈلور کے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس چھاپہ ماری میں شمالی ہند کے 6مزدوروں کے علاوہ 8مقامی افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔